21 دسمبر 2011 - 20:30

پنجاب یونیورسٹی میں یوم حسین علیہ السلام کی تیاریوں میں مصروف شیعہ طلبہ پر اسلامی جمیعت طلبہ کے دہشت گردوں کی فائرنگ اور پتھراو، متعد د زخمی۔

ابنا: 17 سال بعد پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والے یوم حسین علیہ السلام کی تیاریوں میں مصروف شیعہ طلبہ پر جمیعت کے دہشت گردوں کی فائرنگ اور پتھراو سے ، سابق مرکزی صدر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان عارف قمبری سمیت 13 شیعہ نوجوان زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

اسلامی جمیعت طلبہ کی یہ پہلی  دہشت گردانہ کاروائی نہیں ہے بلکہ اسلام کا لبادہ اوڑھنے والی اس تنظیم نے چند سال قبل آئی ایس او کی نظارت کے رکن روزی علی کو اغوا کرکے کئی گھنٹے تک اپنے عقوبت خانے میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد متحدہ طلبہ محاذ سے متفقہ طور پر جمیعت کی رکنیت کو معطل کردیا گیا تھا۔

نمائندے کے مطابق آج سے 17 سال قبل بھی جمیعت کے دہشت گردوں نے یوم حسین علیہ السلام پر فائرنگ کرکے   متعدد عزادار طلبہ کو زخمی کردیا تھا۔

واقعے کے بعد طلبہ میں سخت غصہ و اشتعال پایا جاتا ہے۔

شیعہ تنظیموں کی طرف سے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے  اسلامی جمیعت طلبہ کے  دہشت گردوں کی پر زور  مذمت کی گئی ہے اور  جمیعت کی سرپرست تنظیم جماعت اسلامی سے مطالبہ کیا گیک ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے اس شیعہ دشمن عمل کی وضاحت کرے ورنہ جماعت اسلامی کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اپنے دہشت گرد اسکواڈ کو لگام دے۔.....

/169